اسلامی تاریخ کے متعلق اہم مضمون
تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں
"چونکہ احکامِ شرعیہ (روزہ ، حج ، عدّت وغیرہ) کا مدار حساب قمری پر ہے اس لئے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے ۔ پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنا لے، جس سے حساب قمری ضائع ہوجائے (تو) سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے (تو) دوسرے حساب کا استعمال مباح ( جائز ) ہے لیکن خلاف سنت سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابد ( لازمی طور پر ) افضل واحد ہے"۔ ( بیان القرآن)
حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
" اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا، ناجائز ہے بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز ، روزہ ، زکوۃ اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے مگر اپنے کاروبار تجارت وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرے ۔ شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے تاکہ رمضان اور حج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہے، ایسا نہ ہو کہ اسے جنوری فروری کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں ، فقہاء رحمت اللہ علیہم نے قمری حساب باقی رکھنے کو مسلمانوں کے ذمہ فرض کفایہ قرار دیا ہے، ہاں، اس میں شبہ نہیں کہ سنتِ انبیاءعلیہم السلام اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین میں قمری حساب استعمال
کیا گیا ہے، اس کا اتباع موجب برکت و ثواب ہے ـ
( معارف القرآن جلد 4 ص 507)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پسند فرمودہ : حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پسند فرمودہ : حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں