اسلامی تاریخ کے متعلق اہم مضمون
اسلامی مہینہ اور سال کی حفاظت کرنا اور اسےکم از کم اس حد تک رائج رکھنا کہ قمری تاریخوں کا حساب ضائع نہ ہو جائے یہ مسلمانوں کے ذمہ ایک لازمی فریضہ ہے ۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں "چونکہ احکامِ شرعیہ ( روزہ ، حج ، عدّت وغیرہ ) کا مدار حساب قمری پر ہے اس لئے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے ۔ پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنا لے، جس سے حساب قمری ضائع ہوجائے (تو) سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے (تو) دوسرے حساب کا استعمال مباح ( جائز ) ہے لیکن خلاف سنت سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابد ( لازمی طور پر ) افضل واحد ہے"۔ ( بیان القرآن ) حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : " اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا، ناجائز ہے بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز ، روزہ ، زکوۃ اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے مگر اپنے کاروبار تجارت وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرے ۔ شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے ت...