توبہ کی اہمیت اور فضیلت


نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : "اے لوگو! الله سے توبہ کرو الله کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ الله سے توبہ کرتا ہوں۔"(بخاری)


عیبوں کی بہت پوشیدہ رکھنے والے اور غیب کی چیزوں کے بہت جاننے والے

 کی طرف رجوع ہو کر اپنے گناہوں سے توبہ کرنا سالکین کے طریق کی بنیاد، کامیاب ہونے والوں کے مال کا اصل سرمایہ مریدین کے ترقی کا آغاز، متوجہ و انابت ہونے والوں کے استقامت کی کنجی اور مقربین باصفا کا مطلع و آغاز ہے۔


توبہ منزلوں میں سے سب سے پہلی منزل، بیچ کی منزل اور سب سے آخری منزل ہے، بندہ مومن کو توبہ سے کبھی چھٹکارا حاصل نہیں حتی کہ موت تک اس سے وابستگی رہتی ہے، اگر بندہ ایک منزل سے دوسری منزل سفر کرتا ہے تو توبہ بھی اس کے رفیق سفر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ قیام کرتی ہے۔ پس توبہ بندہ مومن کے لیے آغاز بھی ہے اور انتہا بھی ہے


 "وَ تُوْبُوْا إِلَى اللهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ" ( النور: ٣١)

اے ایمان والو! الله کے آگے سب مل کر توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ.


معلوم ہوا کہ یہ آیت شریفہ مدینہ منورہ کی سورتوں میں سے ہے، الله تعالیٰ نے اس آیت سے اپنی مخلوق میں سے افضل و بہتر مخلوق کو مخاطب فرمایا ہے کہ اپنے ایمان، اپنے صبر، اپنی ہجرت اور اپنے جہاد وغیرہ کے بعد بھی الله تعالیٰ سے توبہ کریں؛ اور تمام مومنین کی کامیابی و فلاح کو توبہ پر موقوف و منحصر فرمایا ہے، کلمہ لعل یعنی تاکہ لا کر وضاحت فرما دی گئی کہ جب تم لوگ فائز المرامی کی امید پر توبہ کرو گے۔ لہذا فلاح کی امید صرف تائب لوگ ہی کرسکتے ہیں، الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی تائبین میں سے بنا دیں آمین۔


 وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ

اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں (الحجرات : ١١)


لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک تائب اور دوسری ظالم اور تیسری کوئی قسم  نہیں، قرآن پاک نے غیر تائب کو ظالم کے نام سے یاد کیا ہے، کیونکہ جو اپنے رب اور اس کے حقوق اور اپنے نفس کی عیوب اور اپنے آفات اعمال سے نا واقف رہے تو اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے ۔


نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : "اے لوگو! الله سے توبہ کرو الله کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ الله سے توبہ کرتا ہوں۔"(بخاری)


توبہ بندے کا الله کی طرف رجوع کرنا اور مغضوب اور ضالین (یعنی جن پر الله کا غضب ہوا ہے اور گمراہ ہیں) کے راستے کو چھوڑنا ہے۔


: توبہ کی تین شرائط ہیں 


توبہ کی پہلی شرط :ندامت اور شرمساری کا ہونا ہے :" کیونکہ اس کے بغیر توبہ کا وجود ممکن نہیں، اگر ندامت و پشیمانی نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس گناہ پر اسے رضامندی اور خوشی اور اصرار ہے۔ مسند میں ہے کہ(الندم التوبہ) یعنی "ندامت و شرم ساری توبہ ہے"۔ 


دوسری شرط: باقی رہا گناہ کو چھوڑ دینا :" تو وہ اس لیے کہ گناہ کے ساتھ توبہ ہو ہی نہیں سکتی، یعنی دونوں میں اس دوسرے کی ضد ہے۔"


توبہ کی تیسری اور آخری شرط: یہ ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ ہو : " درحقیقت بنیادی طور پر پختہ ارادہ اور سچائی پر توبہ کا دارومدار ہے-" بعض علماء نے توبہ کی شرائط میں سے گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کو بھی لگائی ہے۔ فرمایا کہ جب اس نے دوبارہ گناہ کا ارتکاب کیا تو ہم پر یہ بات واضح ہو گئی کہ اس کی توبہ باطل تھی۔


لیکن اکثر علماء اس شرط کے قائل نہیں۔ اگر گناہ کا تعلق کسی انسان کے حق کے ساتھ وابستہ ہو تو اس توبہ کرنے والے پہ ضروری ہے کہ اس فساد کی اصلاح کرلے یا جس کے حق میں اس سے غلطی یا زیادتی ہوئی ہے اس کو راضی اور خوش کرلے۔ کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : "جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی پر ظلم و زیادتی کی ہو چاہے وہ ظلم مال کے سلسلہ سے ہو یا عزت کے سلسلہ کی تو اس کو چاہیے کہ آج اسے معاف کروالے قبل اس کے کہ اس کے پاس نہ دینار ہوگا اور نہ درہم سوائے اچھائیوں اور برائیوں کے۔"


معلوم ہوا کہ بندے کا گناہ دو حق کو شامل ہوتا ہے، ایک حق الله سے متعلق ہوتا ہے اور دوسرا حق انسان سے، جو حق انسان سے متعلق ہوتا ہے اس سے توبہ کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے حق کو معاف کردے، اور الله تعالیٰ کے حق سے توبہ کی صورت یہ ہے کہ آدمی اور الله کے درمیان ندامت و پشیمانی کی کیفیت پیدا ہو جائے، کیونکہ یہ الله تعالیٰ کا حق ہے اس کے لیے صرف احساس ندامت و پشیمانی کی کیفیت پیدا ہو جائے ۔ لیکن بندے کا حق صرف اس کے معاف کرنے سے ہی ختم ہوسکتا ہے۔(واللہ اعلم)


 جس وقت ظلم و زیادتی کسی آدمی پر غیبت یا تہمت لگا کر اس کو مجروح کیا گیا ہو تو کیا اس صورت میں اسے اس کی اطلاع دینا ضروری ہے امام ابو حنیفہ رحمہ الله اور امام مالک رحمہ الله کے مذہب کے اعتبار سے اس کو اطلاع کرنا ضروری ہے، ان کی دلیل حدیث سابق ہے وہ یہ کہ کسی نے اپنے بھائی پر اس کے مال اور اس کی عزت کے سلسلے میں ظلم کیا ہو تو اس سے بری الذمہ ہونے کے لیے صاحب حق کا معاف کرنا ضروری ہے، دوسرے حضرات کے نزدیک اطلاع دینا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف توبہ جو اس کے اور الله تعالیٰ کے درمیان ہو کافی ہے، ہاں البتہ جس کی غیبت کی ہے، یا جس پر تہمت لگائی ہے ان ہی جگہوں میں اس کے اچھے اور عمدہ اخلاق اور اوصاف کو بیان کرے، اور اس کے لیے استغفار بھی کرے، اور یہ مذہب امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اطلاع کرنے کی صورت میں فتنہ و فساد پیدا ہوسکتاہے اور اس میں کوئی مصلحت بھی نظر نہیں آتی، تو ایسی چیزوں کی دین اسلام قطعی اجازت نہیں دیتا چہ جائیکہ ان کا حکم دے یا واجب و ضروری قرار دے۔


 اس شخص کی توبہ کا حال جس نے کسی مال کو غصب کرلیا ہو تو اس مال کا لوٹانا ان لوگوں پر ضروری ہے، لیکن اگر اس مال کا ان پر واپس کرنا دشوار اور ناممکن ہوگیا ہو، ان کے علم نہ ہونے، یا ان کے مر جانے یا کسی اور اسباب کی بنا پر تو اس صورت میں ان کی طرف سے یہ مال صدقہ کردے گا، جب حقوق پورا لینے کا دن یعنی قیامت آئے گی تو ان لوگوں کو اختیار ہوگا چاہے اس کے فعل اور صدقے کو جائز قرار دیں اور چاہے نہ دیں، اور اپنے احوال کے بقدر اس شخص کی اچھائیوں کو لے لیں، اور اس صدقے کا ثواب اس شخص کے لیے ہوجائے جس نے دنیا میں صدقہ کیا تھا، اس لیے کہ الله تعالیٰ اس صدقہ کے ثواب کو اپنی شان کریمی سے ضائع نہیں فرمائے گا۔

ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے

انہوں نے ایک شخص سے باندی خریدی اور اس کے لیے قیمت کا حساب کرتے ہوئے اندر تشریف لے گئے اتنے میں وہ شخص چلا گیا، آپ نے اس کا انتظار کیا، یہاں تک کہ آپ اسکی واپسی سے ناامید ہوگئے تو (پھر) اس باندی کہ قیمت کے بھر صدقہ کردیا اور فرمایا : اے الله یہ باندی کے مالک کی طرف سے ہے، اگر وہ اس سے راضی ہوگیا تو اجر و ثواب اسی کے لیے ہوجائے، لیکن اگر وہ اس سے رضامند نہ ہو اور انکار کردے تو اس کا ثواب میرے لیے ہو، اور اسی کے بقدر میری اچھائیوں میں سے اس کے لیے ہوجائے۔


 رہی توبہ اس کی جس نے اپنے غیر کو حرام معاوضہ و بدلہ دے کر عوض پر قبضہ کرلیا ہو ،جیسے شراب کی بیع و فروخت کرنے والا، گانے والا اور جھوٹی قسم کھانے والا، لیکن پھر اس نے ان چیزوں سے توبہ کرلی ہو اور عوض اس کے قبضے میں موجود ہو تو علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اس کو اس کے مالک کو واپس کردے گا کیونکہ اس کا وہ مال نقد ہے اور شارع کی اجازت کے بغیر اس پر قبضہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کے مالک کو اس کے مقابلے میں کوئی جائز نفع ہی حاصل ہوا ہے، اور علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے بلکہ اس کی توبہ کی صورت یہ ہے کہ وہ اس کو صدقہ کردے گا، کیونکہ وہ کس طرح ایسے مال کو اسکی ادائیگی کرنے والے کو واپس کرے گا جس کے ذریعے الله کی معاصی پر مال حلال اور حرام کے ساتھ گڈمڈ ہوگیا ہو اور اس کے لیے اسکی تمیز اور فرق بھی دشوار ہوگیا ہو تو یہ ہے کہ حرام کے بقدر صدقہ کردے اور اپنے باقی مال کو طاہر و پاکیزہ بنا لے۔ واللہ اعلم


مسئلہ: جب آدمی گناہ سے توبہ کرلے تو کیا وہ اپنے اس درجے پر جو کہ گناہ کرنے سے پہلے تھا اور گناہ کی بدولت جو تنزل اور انحطاط آگیا ہے واپس ہوسکتا ہے یا نہیں؟


ایک جماعت کہتی ہے کہ : توبہ کرنے والا اپنے سابق درجے کو لوٹ سکتا ہے کیونکہ توبہ گناہ کو بالکل ختم اور کاٹ دیتی ہے اور اس کو ایسا بنا دیتی ہے گویا اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا۔


دوسری جماعت کہتی ہے کہ : اپنے پہلے مقام اور حال تک نہیں لوٹ سکتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ٹھہراؤ نہیں آیا تھا بلکہ اتار آگیا تھا اور یہ انحطاط اور کمی گناہ کی وجہ سے پیدا ہوئی اور جب اس نے توبہ کی تو اس کے اس مقدار میں نقص و کمی آ گئی جس میں اس کے لیے ممکن تھا کہ ترقی کی تیاری کرتا اور آگے بڑھتا۔


:شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

یہ سچ ہے کہ بعض توبہ کرنے والے اپنے پہلے درجے کو نہیں پہنچتے، لیکن بعض تو اس سے بھی اعلیٰ اور افضل رتبے کو پہنچ جاتے ہیں اور گناہ سے پہلے کی حالت سے بھی اچھی حالت ہوجاتی ہے ، چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کے توبہ کے بعد کی حالت ان کی خطا ہونے سے پہلے کی حالت سے بہت بہتر اور اچھی ہوگئی تھی۔


نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین مثال : یہاں ایک مثال ذکر کیا جاتا ہے ایک مسافر اطمینان سے اور امن و چین سے راستے پر چل رہا ہے، وہ کبھی دوڑتا ہے کبھی چلتا ہے اور کبھی آرام کرتا ہے کبھی سوتا ہے، وہ ایسے ہی چلا جارہا تھا اسے راستے میں سایہ دار جگہ ملی، جہاں ٹھنڈا پانی بھی تھا، قیلولے کی جگہ بھی، نہایت سرسبز و شاداب باغ بھی تھا، اس کے نفس نے اسے وہاں ٹھہرنے کے لیے اکسایا، تو وہ وہاں اتر پڑا، اچانک ایک دشمن اس پر ٹوٹ پڑا، اسے پکڑ لیا اور قید کردیا اور آگے چلنے سے روک دیا۔ تب اس مسافر نے اپنی ہلاکت آنکھوں سے دیکھ لی اور اسے یقین ہوگیا کہ اب یہاں سے اسکا سفر ختم ہوچکا ہے۔ اور اب وہ درندوں اور وحشی جانوروں کی خوراک بننے والا ہے، اور اب اسکے اور اس کے مقصد سفر کے درمیان یہ مصیبت حائل ہوچکی ہے ۔ ابھی وہ انہی خیالات میں سرگرداں تھا کہ اچانک اس کے پاس اسکے والد محترم آ کر کھڑے ہوگئے، جو مہربان بھی تھے اور اسکے خطرات دور کرنے کی طاقت بھی رکھتے تھے، انہوں نے اسکی رسیاں اور بیڑیاں کھول دیں اور کہا چل پڑو، اور اس دشمن سے ڈرتے رہنا کیونکہ یہ تمہاری تمام منزلوں میں تمہارا گھات لگا کر انتظار کررہا ہے۔ اور تم یہ سمجھ لو کہ جب تک اس سے ڈرتے رہو گے اسکی طرف سے چوکنا رہو گے وہ تم پر قابو نہیں پا سکتا، اور میں تمہارے آگے چل رہا ہوں اور راستے میں تمہارا انتظار کروں گا، بس تم میرے پیچھے پیچھے آؤ۔


تو اگر یہ مسافر چالاک اور ہوشیار اور عقلمند ، حاضر دماغ ، سوجھ بوجھ والا ہوگا تو پھر اپنا راستہ پہلے سے اچھی طرح گزار لے گا اور اپنی احتیاط کرے گا اور اس دشمن کے اچانک حملے اور مقابلے کے لیے تیار رہے گا اور اب اس کا سفر پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم ہوگا اور پہلے سے زیادہ وہ جلدی منزل تک پہنچ جائے گا۔


لیکن اگر وہ دشمن سے غافل ہوگیا، اور پہلے ہی کی طرح لاپرواہ ہوگر چلنے لگا نہ کم کیا نہ زیادہ اور نہ کسی طرح کی تیاری کی تو وہ پہلے جیسی مصیبت میں پھنسا تھا اسی طرح پھر پھنسے گا لیکن اگر اس نے اپنے سفر میں اپنی اختیار کا توازن باقی رکھا، اور اپنی سستی بھی باقی رکھی اور اپنے اچھے کھانے کی خوشبو کو سوچتا رہا اور اس باغ کی خوبصورتی کو یاد کرتا رہا یا یہ وہاں کے میٹھے پانی کو سوچتا رہا تو پھر اپنا سفر پہلے کی طرح نہیں کرسکے گا اور جو کچھ اس کے پاس ہوگا سب 

برباد ہو جائے گا۔ 

-------------------------------------

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

یوم جمہوریہ 26 جنوری پر شاندار تقریر

26جنوری یومِ جمہوریہ پر اشعار

لطیفہ/اردو کہانی