دنیا سے محبت رکھنے سے نقصان

  امام احمد رحمہ الله علیہ نے حضرت سفیان رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فرماتے تھے "ہر خطاء اور غلطی کہ جڑ دنیا کی محبت ہے - اور اس میں مال کی محبت ایک بڑی بیماری ہے - لوگوں نے عرض کیا اس کی بیماری کیا ہے ؟ فرمایا وہ بڑائی اور فخر کے احساس سے بچ نہیں پائے گا ۔ لوگوں نے عرض کیا اگر وہ اس سے نجات پا گیا ؟ فرمایا اس کی اصلاح و درستگی اس کو الله کے ذکر سے غافل کر دے گی -"


• دنیا کی محبت کی وجہ سے دوزخ لوگوں سے معمور اور آباد کی گئی ہےاور اس سے بے رغبتی رکھنے والوں سے جنت آباد کی گئی ہے -


• دنیا کی محبت کا نشہ اور خمار شراب کی تیزی وتندی سے شدید ہوتا ہے۔ اس سے محبت رکھنے والے کو قبر کی تاریکی میں پہنچ کر ہی ہوش اور افاقہ ہوگا ۔


:یحیٰی بن معاذ رحمہ اللہ نے فرمایا  

" دنیا شیطان کی شراب ہے اور جو دنیا کی شراب پی کر مدہوش اور مخمور ہوگیا تو اس کو مردوں کے لشکر میں پہنچ کر ہی ہوش اور افاقہ ہوگا اور وہ خسارہ اٹھانے والوں کے درمیان افسوس کرے گا- دنیا سے محبت رکھنے کا سب سے کم درجہ کا نقصان یہ ہے کہ وہ بندے کو الله تعالیٰ کی محبت اور ان کے ذکر سے غافل کردیتی ہے اور جس کے مال نے اس کو غافل بنادیا تو وہ یقیناً گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگیا اور جو دل الله کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے تو اس دل میں شیطان سکون پذیر ہوجاتا ہے اور جہاں چاہتا ہے اس کو گھماتا رہتا ہے-"اور برائی میں جس شخص کو یہ بات سمجھا دیا کہ وہ اپنے بعض اعمال خیر کے ذریعہ اپنے ربّ کو راضی کر رہا ہے تو البتہ وہ شخص یہی خیال کرے گا کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے(حالانکہ وہ شر کا ارتکاب کر رہا ہے


     :ابن مسعود رضی الله عنه فرماتے ہیں 

" ہر شخص مہمان اور اس کا مال ادھار ہو کر صبح کرتا ہے۔ مہمان تو رختِ سفر باندھ لیتا ہے اور ادھار چیز واپس کردی جاتی ہے-"


:سلف صالحین نے فرمایا ہے 

" دنیا کی محبت تمام خطاؤں اور غلطیوں کی اصل جڑ اور دین کو فاسد اور خراب کرنے والی کئی وجوہات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:




پہلی وجہ :" دنیا کی محبت بندے سے اپنی تعظیم و توقیر کی متقاضی ہوتی ہے اور دنیا الله کے نزدیک انتہائی حقیر اور بے قدر چیز ہے اور سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس چیز کی تعظیم کی جائے جسے الله نے حقیر اور بے قدر بتلایا ہو

 

دوسری وجہ " الله تعالی نے دنیا کو ملعون, مبغوض اور انتہائی مکروہ قرار دیا ہے لیکن ان چیزوں کے علاوہ جو الله تعالی نے اس میں پیدا فرمائی ہیں۔ اور ظاہر بات ہے کہ الله کے نزدیک جو چیز انتہائی درجہ کی نا پسندیدہ اور بے حد مبغوض و مکروہ ہو اس سے محبت اور لو لگائی جائے تو اس کا قوی امکان ہے کہ کسی آزمائیش کی زد میں آجائے اور الله عزوجل کے غیض و غضب اور اس کی ناگواری سے دو چار ہونا پڑے۔


تیسری وجہ : " جب کسی نے اس دنیا سے محبت کی اور اس سے لو لگائی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے دنیا کو غایت و مقصد قرار دے دیا اور اس نے دنیا کو ان اعمال کے ذریعہ طلب کیا جنہیں الله تعالی نے اپنے اور دار آخرت کے لیے وسائل اور ذرائع میں سے بنایا ہے پس اس طور سے معاملہ بالکل برعکس ہوگیا اور حکمت الٹی ہو گئی۔ یہاں پر توجہ کے قابل دو باتیں ہیں ایک یہ کہ وسیلہ کو غایت اور مقصد کا درجہ قرار دے دیا جائے, اور دوسری بات یہ کہ بندہ اسے آخرت کے اعمال سے دنیا حاصل کرنے کا وسیلہ اختیار کرے تو یہ خاص طور سے بہت گھٹیا اور خراب بات ہے اور عقل و حکمت کے لحاظ سے بھی بد ترین طریقہ ہے- اور اسی پر "حذ والقذۃ بالقذۃ" (تیر کے پر کے آپس میں برابر ہونے کی طرح) صادق آتا ہے"


 مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَ زِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ‏ ۞ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَـيۡسَ لَهُمۡ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ‌ ‌ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞(ھود: ١٥- ١٦)

 جو کوئی دنیا کی زندگانی اور اس کی خو ش نمائیوں چاہے ہم ان کو ان کے عمل دنیا میں بھگتا دیں گے اور ان کو اس میں کچھ نقصان نہیں ہوگا- مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا خراب ہوگیا-"


دنیا کی محبت کی مذمت و برائی کے بارے میں کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں ۔جیسے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ " تین آدمیوں کے لیے سب سے پہلے جو آگ خوب بھڑکائی اور شعلہ زن کی جائے گی وہ غازی اور صدقہ وزکاۃ کرنے والے پڑھنے والے ہوں گے جن کا قصد و ارادہ ان چیزوں سے دنیا حاصل کرنا اور کمانا رہا ہوگا

دنیا سے محبت و لگاؤ رکھنے والوں کو خوب غور سے کام لینا چاہیئے کہ ایسے اعمال کرنے والے لوگ بھی اپنے اجر و ثواب سے محروم ہو جائیں گے ان کے عمل ضائع ہوجائیں گے اور دوزخ میں سب سے پہلے داخل ہونے والے ہوں گے۔


چوتھی وجہ : " دنیا کی محبت بندے کو آخرت میں فائدہ پہنچانے والے اعمال کے درمیان حائل ہو جاتی ہے اور لوگ محبوب کے عشق و محبت میں پھنس کر آخرت کے اعمال سے مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اس اعتبار سے لوگوں کے اندر فرق مراتب پایا جاتا ہے۔ ان میں بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے محبوب کے عشق و محبت کے شکار ہوکر دین و شریعت سے دور ہوجاتے ہیں ۔اور بعضوں سے واجبات ترک ہوتے ہیں ۔ اور کسی سے واجب اور حب دنیا کے تصادم و ٹکراؤ کی صورت میں اس واجب سے مشغول ہو جاتے ہیں اور کوئی ایسا ہوتا ہے کہ کسی واجب کو اس کے صحیح اور افضل وقت پر ادا نہیں کرتا ہے اس طور سے اس کے وقت اور حقوق میں اس سے تقصیر و کوتاہی لامحالہ ہو جاتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی واجب کے کرتے وقت دنیا ان کے دل کی عبودیت اور الله تعالی کے استحضار سے مصروف کر دیتی ہے۔ لہٰذا اس عبادت کو وہ ظاہری طور پر ادا کرتے ہیں اور باطنی طور پر عبادت سرے سے خالی و عاری ہوتی ہے ۔یہ دنیا کے عاشقوں اور اس سے محبت کرنے والوں سے کہاں ہوسکتی ہے۔محبتِ دنیا کے نقصان کا سب سے معمولی درجہ یہ ہے کہ بندے کو اس کی سعادتِ حقیقی یعنی اس کے دل کو الله تعالیٰ کی محبت اور اس کی زبان کو ان کی یاد اور چاس کے دل کو اس کی زبان کے ہم آہنگ ہونے اور اس کی زبان اور دل کو اس کے ربّ کے ساتھ مشغول ہونے سے مصروف اور پھیر دیتی ہے۔ 

لہٰذا دنیا کی محبت اور اس کے عشق بندے کو آخرت میں بالضرور نقصان پہنچاتی ہے بالکل جس طرح آخرت کی محبت دنیا کو نقصان و ضرر پہنچاتی ہے۔


پانچویں وجہ : " دنیا کی محبت بندے کی ایک عظیم فکر اور اس کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ 

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا" جس کی فکر کا محور آخرت ہوتی ہےتو الله تعالیٰ اس کے دل میں غنی و مالداری پیدا فرما دیتے ہیں۔ اس کے شیرازہ کو یکجا فرما د یتے ہیں اور اس کے پاس دنیا ناک رگڑ کر حاضر ہوتی ہے۔ لیکن جس کا مرکز فکرِ دنیا ہوتی ہے تو الله تعالیٰ اس کے فقرو ضرورت کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتے ہیں۔ اس کے شیرازہ کو بکھیر دیتے ہیں اور دنیا اس کو اتنی ہی ملتی ہے جس قدر اس کے لیے مقدر ہے-"(ترمذی)


چھٹی وجہ: " دنیا سے محبت اور عشق کرنے والے کو سب سے زیادہ عذاب میں رکھا جاتا ہے اس لیے کہ وہ تین مرتبہ اپنے دور میں عذاب سے گزرتے ہیں- ایک یہ کہ انہیں دنیا حاصل کرنے کے لیے بہت کوشش و کاوش کرنی پڑتی ہے اور اس کے لیے انتہائی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ انہیں دنیا کے بازار میں لوگوں کے ساتھ لڑائی و جھگڑے کے دور سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور آخرت میں دنیا کی نعمتوں کے چھوٹ جانے سے غایت درجہ افسوس و ملال اور حسرت ہوگی۔ اور اس کے اور اسکے محبوب کے درمیان ایسی مفارقت و جدائی کردی جائے گی کہ پھر اس سے ملاقات و اجتماع کی کوئی امید کی کرن باقی نہ رہے گی اور نہ اس کے بدلے میں اسے کوئی محبوب دستیاب ہو سکے گا- ایسے شخص کو عذابِ قبر بھی سب سے زیادہ اور درد ناک ہوگا۔ اس کی روح کو جس قدر رنج وغم اور فکرو حسرت سے تکلیف لاحق ہوگی اس قدر اس کے جسم کی تکلیف زمین کے کیڑوں اور بچھوؤں کے ڈسنے اور کاٹنے سے نہ ہوگی-"

حاصل گفتگو یہ کہ دنیا سے محبت رکھنے والے کو عذابِ قبر بھی ہوگا۔ اور اپنے رب سے ملاقات کے دن بھی سخت ترین عذاب ہوگا۔

 فَلَا تُعۡجِبۡكَ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ‌ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ۞ (التوبة: 55)

 اِن کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھاؤ، الله تو یہ چاہتا ہے کہ اِنہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے اور یہ جان بھی دیں تو انکار حق ہی کی حالت میں دیں


:بعض سلف صالحین فرماتے تھے کہ  

 الله تعالی ان کو عذاب دنیا جمع کرنے کی وجہ سے دیں گے اور ان کی جان دنیا کی محبت کے ساتھ نکلے گی کیونکہ وہ اس میں الله تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے سے انکار کرتے تھے۔


ساتویں وجہ : " دنیا سے محبت اور عشق رکھنے والا اگر دنیا کو آخرت پر ترجیح اور فوقیت دیتا ہے تو وہ بے وقوف ترین اور احمق ترین انسان ہے ۔کیونکہ اس نے خیال کو حقیقت پر۔ نیند کو بیداری پر ۔ مٹ جانے والے سایہ کو جنت پر اور فانی گھر کو ایک ہمیشہ رہںنے والے گھر پر ترجیح اور فوقیت دی اور ایک سدا بہار اور پر ہار زندگی کو ایسی زندگی کے عوض بیچ دیا جو لوگوں کو خوابوں یا مٹ جانے والے سایہ کی مانند ہے۔ لہٰذا کسی عقلمند آدمی کی لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ ایسی چیزوں سے دھوکہ کھا جائے -"


:اور بعض سلف صلحین اس شعر کو پڑھتے تھے 

 اے دنیا سے لذت لینے والو (معلوم ہو کہ اس کے لیے بقاء و دوام نہیں ) کسی جانے والے سایہ سے دھوکہ کھانا بڑی بے وقوفی کہ بات ہے


:یونس بن عبد الاعلی نے فرمایا  

 میں دنیا کی مثال ایسے شخص سے دیتا ہوں کہ وہ اپنے عالم نیند میں ایسی چیزوں کو دیکھ رہا ہے جو اسے ناگوار بھی گزر رہی ہوں اور پسند بھی ہوں پس اسی اثنا اسکی نیند کھل جاتی ہو

دنیا سایہ سے مشابہت میں بہت قریب تر ہے تم کیونکر سایہ کو ایک پائیدار و ثابت حقیقت سمجھتے ہو حالانکہ وہ برابر سکڑتا اور کم ہوتا رہتا ہے۔ تم اگر اس کے پیچھے پکڑنے کے لیے چلتے ہو تو وہ پکڑا نہیں جاتا۔

 اور دنیا کی مشابہت اس ریت سے ہے جسے ایک پیاسا آدمی پانی سمجھ کر اس کے قریب پہنچتا ہے تو وہ وہاں کچھ نہیں پاتا اور الله کو پاتا ہے تو الله تعالی اس کا حساب پورا کر دیتے ہیں اور الله تعالی جلد حساب لینے والے ہیں۔ 

اور دنیا کی مشابہت ایک ایسی بوڑھی بد شکل اور اپنے شوہر سے بے وفا عورت سے ہے جو اپنی منگنی کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے اور میک اپ کے ذریعہ اپنے چہرہ کے عیبوں کو چھپادیتی ہے۔ اس کی ظاہری شکل کو دیکھ کر ایک شخص دھوکا کھاتا ہے ۔ اور اس سے نکاح کرنے کی درخواست کرتا ہے ۔ عورت کہتی ہے کہ میرا مہر تو صرف آخرت سے فقدان ہے کیونکہ ہم آپس میں سوکنیں ہیں ۔ اور ہم لوگوں کا باہم ملنا حرام اور جائز نہیں ہے لیکن منگنی کا پیغام دینے والوں نے اسی عورت کو ترجیح دے کر نکاح کرلیا۔ اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص پر گناہ و جرم نہیں ہے جو اپنے حبیب اور یار سے وصل کرتا ہو۔ مگر اس نے جس وقت اس کے چہرے سے نقاب اٹھایا اور اس کے کپڑے کو اتارا پس اس نے ایک مصیبت اور آفت کا مشاہدہ کیا۔ بعضوں نے تو اسی وقت طلاق دے کر راحت حاصل کر لیا۔ اور بعضوں نے مقام کی نزاکت سے اسے اختیار کرلیا اور اس کی شب زفاف شور ہنگامہ کے ساتھ گزری-

 بخدا دنیا کے مؤذن نے برسرعام اذان دی ۔ لیکن فلاح کے لیے نہیں بلایا، تو دنیا کے طلبگار اور اس کے پجاری دوڑ پڑے اور صبح و شام مسلسل اس کی لب میں رہے تو رات کو طلنے والوں نے صبح کو اس کی کوئی تعریف نہیں کی - دنیا کے شکار میں جتنے لوگ اڑے ان میں سے جتنے لوگ واپس ہوئے سب کے بازو شکستہ تھے اور وہ دنیا کے جال میں پھنس گئےاور دنیا نے سب کو ذبح کے لیے تیار کردیا۔

عیبوں کی بہت پوشیدہ رکھنے والے اور غیب کی چیزوں کے بہت جاننے والے کی طرف رجوع ہو کر اپنے گناہوں سے توبہ کرنا سالکین کے طریق کی بنیاد، کامیاب ہونے والوں کے مال کا اصل سرمایہ مریدین کے ترقی کا آغاز، متوجہ و انابت ہونے والوں کے استقامت کی کنجی اور مقربین باصفا کا مطلع و آغاز ہے۔

توبہ منزلوں میں سے سب سے پہلی منزل، بیچ کی منزل اور سب سے آخری منزل ہے، بندہ مومن کو توبہ سے کبھی چھٹکارا حاصل نہیں حتی کہ موت تک اس سے وابستگی رہتی ہے، اگر بندہ ایک منزل سے دوسری منزل سفر کرتا ہے تو توبہ بھی اس کے رفیق سفر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ قیام کرتی ہے۔ پس توبہ بندہ مومن کے لیے آغاز بھی ہے اور انتہا بھی ہے۔


 "وَ تُوْبُوْا إِلَى اللهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ" (النور : ٣١)

"اے ایمان والو! الله کے آگے سب مل کر توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ."


معلوم ہوا کہ یہ آیت شریفہ مدینہ منورہ کی سورتوں میں سے ہے، الله تعالیٰ نے اس آیت سے اپنی مخلوق میں سے افضل و بہتر مخلوق کو مخاطب فرمایا ہے کہ اپنے ایمان، اپنے صبر، اپنی ہجرت اور اپنے جہاد وغیرہ کے بعد بھی الله تعالیٰ سے *توبــــہ* کریں؛ اور تمام مومنین کی کامیابی و فلاح کو توبہ پر موقوف و منحصر فرمایا ہے، "کلمہ لعل" یعنی "تاکہ" لا کر وضاحت فرما دی گئی کہ جب تم لوگ فائز المرامی کی امید پر توبہ کرو گے۔ لہذا فلاح کی امید صرف تائب لوگ ہی کرسکتے ہیں، الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی تائبین میں سے بنا دیں آمین۔


 "وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ"

"اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں"(الحجرات : ١١)

لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک تائب اور دوسری ظالم اور تیسری کوئی قسم نہیں، قرآن پاک نے غیر تائب کو ظالم کے نام سے یاد کیا ہے، کیونکہ جو اپنے رب اور اس کے حقوق اور اپنے نفس کی عیوب اور اپنے آفات اعمال سے نا واقف رہے تو اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے، 


نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : "اے لوگو! الله سے توبہ کرو الله کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ الله سے توبہ کرتا ہوں۔


🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

یوم جمہوریہ 26 جنوری پر شاندار تقریر

26جنوری یومِ جمہوریہ پر اشعار

لطیفہ/اردو کہانی