حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
میری امت میں حلال و حرام میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔"
{فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم}
جب جزیرہ عرب رشد وہدایت اور حق وصداقت کے نور سے چمک اٹھا تو ایک
ابھرتے ہوئے یثربی جوان معاذ بن جبل کے دل میں ایک طوفان برپا ہو گیا ۔یہ اپنے ہم عمر ساتھیوں میں سب سے زیادہ ذہین ،فطین ،باہمت اور فصیح البیان تھا ۔اس کے ساتھ یہ سرمیلی آنکھوں،گھنگریالے بالوں ،چمکیلے دانتوں والا ایک ایسا حسین وجمیل نوجوان تھا کہ اسے دیکھنے والی آنکھیں ٹک ٹک دیکھتی ہی رہ جاتیں اور دیکھنے والے کا دل اس خوبصورت اور دل کش چہرے کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتا۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مکی مبلغ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور عقبہ کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خوش نصیب قافلے میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ کا قصد کیا ،تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کا شرف حاصل کر سکیں اور تاریخ اسلام کے سنہری باب میں اپنا نام درج کرانے کا شرف حاصل کر سکیں ۔
اس نوجوان نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچتے ہی بتوں کو توڑنے کے لئے اپنے ہم عصر ساتھیوں کا ایک گروپ ترتیب دیا ،انہوں نے خفیہ اور اعلانیہ کاروائی شروع کر دی ، ان نوخیز جوانوں کی تحریک سے متاثر ہو کر یثرب کی ایک اہم شخصیت عمرو بن جموح نے اسلام قبول کر لیا ۔
عمرو بن جموح بنو سلمہ کا ہر دلعزیز سردار تھا اور اس نے اپنے لئے نہایت عمدہ لکڑی کا بت تیار کروایا تھا اور یہ اس کی بڑی دیکھ بھال (تعظیم) کیا کرتا تھا ۔ اسے ریشمی کپڑے پہناتا اور قیمتی عطریات ملتا ۔
ایک رات نوجوان اندھیرے میں چپکے سے اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کے بت کو اٹھا کر دبے پاؤں باہر نکلے اور بنو سلمہ کے گھروں کے پیچھے ایک ایسے گڑھے میں پھینک دیا جس میں گندگی تھی۔
جب صبح سردار عبادت کی غرض سے اپنے بت کے پاس گیا تو اسے غائب پایا ،ہر جگہ اس کی تلاش کی بالآخر اپنے بت کو گڑھے میں گندگی میں لت پت اوندھے منہ پڑے ہوئے پایا۔اسے وہاں سے اٹھایا، غسل دیا ،گندگی سے پاک کیا اور دوبارہ اس کی جگہ پر لا کر رکھ دیا۔
عرض کیا: اے منات! بخدا!اگر مجھے اس بات کا پتہ چل جائے کہ تیرے ساتھ بدسلوکی کرنے والا کون ہے تو میں سر عام اس کو ایسا رسوا کروں کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے۔
جب رات ہوئی اور سردار خراٹے لینے لگا تو ان نوجوانوں نے وہی کام کیا جو پہلی رات سر انجام دیا تھا ۔
تلاش بسیار کے بعد اسے اسی جیسے ایک دوسرے گڑھے میں اوندھے منہ پڑا ہوز پایا۔
اسے وہاں سے اٹھایا، غسل دیا، صاف ستھرا کیا ،عطر لگایا اور یہ سلوک کرنے کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور سر عام انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی دھمکی دی بار بار اس عمل کو دہرایا گیا۔
نوجوان کنویں میں پھینک آتے اور یہ وہاں سے نکال کر غسل دے کر اسی جگہ رکھ دیتا اور اس کی پوجا پاٹ کر دیتے۔
بالآخر اس نے تنگ آکراس بت کے گلے میں تلوار لٹکا دیاور اس سے مخاطب ہوا ۔
اللہ کی قسم تیرے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کا مجھے علم نہیں۔
اے منات! اگر تم میں طاقت اور ہمت ہے تو اپنا دفاع کر یہ تلوار تیرے پاس ہے ۔
جب رات ہوئی اور سردار نیند کی آغوش میں محو استراحت ہوا، نوجوان بت پر ٹوٹ پڑے اس کی گردن میں لٹکی ہوئی تلوار کو ایک مردہ کتے کی گردن کے ساتھ باندھ دیا اور دانوں کو نزدیک ہی گڑھے میں اوندھے منہ پھینک آئے۔
جب صبح ہوئی سردار نے اپنا بت غائب پایا، تلاش شروع کی تو اسے انتہائی بد تر حالت میں ایک گھڑے میں اوندھے منہ پڑا ہوا پایا۔گندگی سے وہ لت پت تھا اور ساتھ مردہ کتا بندھا ہوا تھا اور اس کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی ۔
سردار نے یہ قبیح منظر دیکھتے ہی یہ شعر پڑھا۔۔
اللہ کی قسم اگر تو خُدا ہوتا تو تو اور کتا ایک ساتھ گھڑے میں اوندھے منہ پڑے ہوئے نہ ہوتے۔
بنو سلمہ کے سردار نے یہ شعر پڑھنے کے بعد اسلام قبول کر لیا ۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے ۔ تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سائے کی طرح چمٹ گئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور شرعی احکامات کا علم حاصل کرنے میں منہمک ہو گئے یہاں تک کہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ کتابِ الہی اور شریعتِ اسلامیہ کا علم رکھنے والے بن گئے ۔۔۔۔
⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫⧫
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں