اشاعتیں

نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات

  عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے :  لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ترجمہ  اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں ۔  سنن ابی داؤد جلد 1 -1493  صحیح ✦:रसूल-अल्लाह सलअल्लाहू अलैहि वसल्लम हर नमाज़ के बाद ये कलीमात पढ़ा करते थे ला इलाहा ईलअल्लाहु वहदहू ला शरीक लहू, लहुल-मूल्कू, व लहुल-हम्दु  व हुव अला कुल्ली शय इन क़दीर ला हौल व ला क़ुव्वत इल्ला बिल्लाह, ला 'इलाह ईलअल्लाहु, व ला नाअबुदू  इल्ला ...

لطیفہ/اردو کہانی

  لطیفہ ایک مرتبہ خلیفہ مامون نے مجلس میں ایک قصیدہ پیش کیا اور معروف شاعر ابونواس سے اس کی راے جاننا چاہی۔  ابونواس کہنے لگا: بلاغت اس کو چھو کر بھی نہیں گزری! خلیفہ مامون نے حکم دیا کہ اسے ایک مہینے تک گدھوں کے اصطبل میں قید رکھا جائے۔ ابونواس ایک ماہ کی قید کاٹ کر رہا ہوا تو پھر مجلس میں حاضری دی۔ اب کے خلیفہ مامون نے ایک اور قصیدہ سنایا؛ ابھی آدھا قصیدہ ہی ہوا تھا کہ ابونواس اٹھ کر جانے لگا؛ خلیفہ مامون نے پوچھا: کہاں چل دیے؟ کہا: اصطبل۔

اسلامی تاریخ کے متعلق اہم مضمون

اسلامی مہینہ اور سال کی حفاظت کرنا اور اسےکم از کم اس حد تک رائج رکھنا کہ قمری تاریخوں کا حساب ضائع نہ ہو جائے یہ مسلمانوں کے ذمہ ایک لازمی فریضہ ہے ۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی  تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں "چونکہ احکامِ شرعیہ ( روزہ ، حج ، عدّت وغیرہ ) کا مدار حساب قمری پر ہے اس لئے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے ۔ پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنا لے، جس سے حساب قمری ضائع ہوجائے (تو) سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے (تو) دوسرے حساب کا استعمال مباح ( جائز ) ہے لیکن خلاف سنت سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابد ( لازمی طور پر ) افضل واحد ہے"۔ ( بیان القرآن )  حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :  " اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا، ناجائز ہے بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز ، روزہ ، زکوۃ اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے مگر اپنے کاروبار تجارت وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرے ۔ شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے ت...